نئی دہلی، 29؍جنوری (ایس او نیوز؍ایجنسی) واجپئی حکومت میں وزیر دفاع رہے جارج فرنانڈیز کا منگل کے روز انتقال ہو گیا۔ وہ 88 سال کے تھے۔ خاندانی ذرائع نے ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔ فرنانڈیز طویل عرصہ سے بیمار تھے اور اپنی صحت کی وجہ سے کئی سالوں سے ان کا رابطہ عوام سے کٹ گیا تھا۔
اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت میں جارج فرنانڈیز وزیر دفاع رہے ۔ وہ 1998 سے 2004 کے درمیان وزیردفاع رہے۔ 2004 میں تابوت اسکینڈل سامنے آنے کے بعد انہوں نے استعفی دے دیا تھا۔ بعد میں دو الگ- الگ کمیشن آف انکوائری میں انہیں بےقصور قرار دیا گیا تھا۔
منگلورو کے رہنے والے جارج فرنانڈویز نے سمتا پارٹی قائم کی تھی۔ انہوں نے ایمرجنسی کے خلاف اپنی آواز بلند کی تھی اور سول رائٹس ایکٹیوسٹ کے طور پر مشہور ہوئے تھے۔ وہ 1977 سے 1980 کے بیچ مورارجی دیسائی کی قیادت والی جنتا پارٹی حکومت میں بھی مرکزی وزیر رہے۔
سابق وزیر دفاع جارج فرنانڈیز کے انتقال پر ہندوستان کے وزیر اعظم اور سیاسی جماعتوں کے رہنماوں نے دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے۔
ہندوستان کے وزیراعظم نریندرمودی نے سوشلسٹ رہنما اور سابق مرکزی وزیر جارج فرنانڈیز کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ غریبوں اور محروموں کے حقوق کے لئے سب سے مؤثر کن آواز تھے۔
کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے منگل کو سابق وزیر دفاع جارج فرنانڈیز کے انتقال پر اظہار افسوس کیا۔ راہل گاندھی نے ٹویٹ کرکے کہا مجھے سابق رکن پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر جارج فرنانڈیز کی وفات کے بارے میں سن کر بہت دکھ ہوا ۔